جمعرات، 30 اپریل، 2015

عبدا  لصبور شاکرؔ

کمسنی کا نکاح
قرب قیامت ، اپنے ساتھ کئی ایسے مسائل کو جمع کر رہی ہے ، جنہیں آج سے کچھ عرصہ قبل متفق علیہ سمجھا جاتا تھا۔آجکل نام نہاد انسانی حقوق یا حقوقِ نسواں کے عنوان سے وقتافوقتا ایسے خالص علمی وتحقیقی،معاشرتی وتمدنی موضوعات کو انتہائی بے ڈھنگے اورجاہلانہ انداز سے چھیڑا اوراچھالا جاتاہے کہ خالی الذہن اورعام آدمی ان کے دام تزویر میں آئے بغیر نہیں رہ سکتا۔تہذیبِ مغرب کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھنے اوراس کو اندر سے جھانکنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اُس معاشرے میں انسانیت اورخاص طور صنفِ نازک کس کرب والم میں مبتلاء اورسسک رہی ہے،اس کے باوجود وہ لوگ سال میں ایک ایک دن خاص موضوعات(جیسے مدر ڈے،خواتین کا عالمی دن،آبادی کا عالمی دن،ماں اوربچے کا عالمی دن وغیرہ) کیلئے مختص کرکے انسانیت کے چیمپین بننے کی کوشش کرتے ہیںہمارے ملک کا ایک مخصوص طبقہ بھی جانے انجانے میں انہی خرافات میں پڑ کر نہ صرف یہ بھول جاتے ہیں اسلام نے انسانیت کو کس قدر مساوات پر مبنی اور آفاقی حقوق عطاء کئے ہیںبلکہ بساوقات انہی نام نہادانسانی حقوق کی آڑ میں شرعی مسلّمات پر بھی احمقانہ وجاہلانہ کج بحثیاں شروع کردی جاتی ہیں۔حال ہی میں خواتین کے عالمی دن کے موقعہ پر پنجاب اسمبلی نے کچھ قانون سازیاں کیں جن ایک شق کم عمری میں نکاح کی ممانعت بھی شامل ہے جس کی روسے سولہ سال سے کم عمر لڑکی کا نکاح کرنے والے والدین اورنکاح خواںقیدوجرمانہ کے مستحق ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ اس قسم کے مسائل پر بحث کرنے اورشرعی نقطہ نظر واضح کرنے کیلئے ہمارے ملک میں ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘کے نام سے ایک مستقل وفاقی ادارہ ہے اور قانون ساز اسمبلیاں اس بات کی پابند ہیںکہ شرعی مسائل میں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف رجوع کریں اور اس کی دی ہوئی سفارشات کو عملی جامہ پہنائیں۔لیکن بہت سے دیگراداروں کی طرح اس ادارے کی حیثیت بھی نشتن ،گفتن اور برخاستن سے بڑھ کر نہیں ہے۔لہذا اگر تو اس قسم کے قوانین اس مغربی معاشرے کی تقلید میں پاس کئے جارہے ہیں جہاں سولہ سال سے کم عمر کا نکاح تو قابلِ سزاجرم ہے اور اگر پندرہ سالہ لڑکی حرامکاری میں مرتکب ہوکر ماں بن جائے تو اسے مکمل ’’انسانی آزادی‘‘اور’’انسانی حقوق ‘‘حاصل ہیں،پھر تو اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگراربابِ حل وعقد واقعتا بعض معاشرتی مسائل اورخرابیوں کو سامنے رکھ کر ان کا سدِ باب کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس قسم کی قانون سازی سے پہلے قرآن وسنت کی روشنی میں اس قسم کے مسائل کی اصل نوعیت کو واضح کرنا ضروری ہے۔
دراصل یہ دو علیحدہ علیحدہ مسئلے ہیں، یعنی
۱۔سولہ سے کم عمر بچی کا نکاح 
۲۔ سولہ سال سے کم عمر بچی کی رخصتی
گزارش ہے کہ پہلی صورت میں تو کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ سب علماء کا اجماع ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچی کا نکاح منعقد ہو سکتا ہے۔(رحمۃ الامہ: ۲۶۳،۲۶۵) اور اس کی دلیل قرآن مجید کی آیت مبارکہ واللآئی لم یحضن (سورۃ الطلاق:۴)ہے۔یعنی ’’اسی طرح وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی ماہواری آنی شروع ہی نہیں ہوئی، ان کی عدت بھی تین مہینے ہوگی۔ گویا کم سنی کا نکاح قرآن پاک کی روشنی میں معیوب نہیں ہے،اگریہ معیوب چیز ہوتی تو اللہ تعالی اس کا حکم ہی بیان نہ فرماتے۔
اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’فلما بین اللہ تعالی عدۃ النساء اللاتی یحضن ۔۔۔۔۔ قام رجل آخر فقال ارأیت یا رسول اللہ فی اللآئی لم یحضن للصغر ماعدتھن فنزل لم یحضن من الصغر فعدتھن ایضاثلاثۃ اشھر‘‘ جب اللہ تعالی نے حائضہ عورتوں کی عدت بیان فرمائی تو ایک آدمی کھڑا ہوگیا اور عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کا اس عورت کی عدت بارے کیا خیال ہے جسے کم سنی کی وجہ سے حیض نہ آیا ہو تو یہ آیت مبارکہ واللآئی لم یحضن  نازل ہوئی۔کہ جن عورتوں کو صغر سنی کی وجہ سے حیض نہ آئے تو ان کی عدت بھی تین مہینے ہے۔
قرآن مجید کے علاوہ حدیث مبارکہ سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے دو باب باندھے ہیں ،ایک باب ’’باب تزویج الصغار من الکبار‘‘ ہے یعنی کم سن لڑکی کا بڑے آدمی سے نکاح کرناجس میں یہ حدیث مبارکہ نقل کی ہے۔ ’’عن عروۃ رضی اللّٰہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم خطب عائشۃ الی ابی بکر ، فقال لہ ابوبکر: انما انا اخوک، فقال انت اخی فی دین اللہ وکتابہ وھی لی حلال‘‘ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگا تو انہوں نے عرض کی کہ میں تو آپ کا بھائی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو میرا دین میں بھائی ہے ، اور عائشہ میرے لیے حلال ہے‘‘۔ اور سب جانتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس وقت صرف چھ سال تھی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسرے باب کا عنوان یہ رکھا ہے ’’باب انکاح الرجل ولدہ الصغار‘‘ (آدمی کا اپنی کمسن اولاد کا نکاح کردینا)،  دلیل کے طور پر یہ آیت مبارکہ لائے ہیں۔ واللآئی لم یحضن: فجعل عدتھا ثلثۃ اشھر قبل البلوغ۔ اس باب کے تحت یہ حدیث مبارکہ لائے ہیں۔ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تزوجھا وھی بنت ست سنین۔ وادخلت علیہ وھی بنت تسع۔ ومکثت عندہ تسعا۔‘‘ (صحیح بخاری ۷۷۱؍۲)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عقد فرمایاجب وہ چھ سال کی تھیں، اور ان کی رخصتی ہوئی جب کہ وہ نو سال کی تھیں، اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو سال رہیں۔امام بخاریؒ کے قائم کردہ مذکورہ دونوں باب یہی بتلاتے ہیں کم سنی میں نکاح کی اجازت ہے۔ 
اس حدیث مبارکہ کے ذیل میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔ ’’مہلب فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ باپ کے لیے جائز ہے کہ اپنی چھوٹی کنواری بیٹی کا عقد کر دے۔ اگرچہ وہ وظیفہ زوجیت کے لائق نہ ہو۔ ‘‘(حاشیہ بخاری ص ۷۷۱ ج ۲) معلوم ہوا کہ اس واقعے کی حقیقت پر امت کا اجماع ہے۔نیز سولہ سال سے کم عمر بچی کا نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ نیز فقہاء کرام نے خیار بلوغ کے عنوان پر باقاعدہ ابواب باندھے ہیں اور لمبی لمبی ابحاث ذکر کی ہیں اگر ہم کم عمر ی کے نکاح کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو فقہاء کرام کی ان تمام باتوں کو لغو ماننا پڑے گا جو کہ خود ایک لغو بات ہوگی۔
اب آتے ہیں دوسرے مسئلہ کی طرف کہ آیا سولہ سال سے کم عمر بچی کی رخصتی شرعا جائز ہے یا نہیں؟توظاہر ہے رخصتی کے معاملہ میں سن بلوغ کا اعتبار کیا جاسکتاہے ، معاشرتی وطبی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے اگر رخصتی یا نکاح مع رخصتی کیلئے حکومت وقت کی طرف اگر عمرکی کوئی قید مقرر کردی جائے اس میں تو بظاہر کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا ،لیکن کم سنی میں مطلقا نکاح کی ممانعت یہ واقعتا ایک قابل غور مسئلہ  ہے جس میں کسی حتمی قانون سازی سے پہلے محققین سے رائے لینا ضروری ہے۔کیونکہ شریعت نے جس بات کو عام رکھا ہو ہم اپنی طرف سے اس کو مقید نہیں کرسکتے۔
ذیل میں ہم کچھ مشہور نکاح لکھتے ہیں جو کم سنی کی عمر میں طے پائے۔
٭حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ کا نکاح بچپن ہی میں سلمہ بن ابی سلیمہ سے کر دیا تھا۔
٭سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بچپن ہی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کر دیا تھا۔
٭حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کی پانچ سالہ بیٹی کا نکاح ایک لڑکے سے کر دیا تھا۔
٭حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے اپنی کم سن بیٹی کا نکاح مسیب بن نخیہ سے کر دیا تھا۔(بحوالہ سیرت امہات المؤمنین)
اس کے ساتھ ساتھ ایک فائدے کی بات جو صدرمفتی دارالعلوم کراچی مفتی عبدالرؤف سکھرو ی صاحب دام ظلہ نے نقل فرمائی ہے کہ: ’’جب حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ساڑھے پندرہ برس کی ہوئیں، تو سب سے پہلے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کا پیغام دیا، اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے عذر فرمادیا اور معذرت کر لی کہ میری بیٹی کی عمر کم اور تمہاری عمر زیادہ ہے۔‘‘(شادی بیاہ کے اسلامی احکام)