اتوار، 1 جنوری، 2023

 سالِ نو کا پیغام… نوجوانوں کے نام!!!

تحریر: عبدالصبور شاکر فاروقی


ابھی کل کی بات ہے2017ء کا سورج طلوع ہوا تھا۔ اپنے ساتھ امیدوں کے دیے، خواہشات کے جگنو، جینے کی امنگ، ترقی کی آرزو اور تبدیلی کی آس لایا تھا۔ آنکھوں نے کتنے ہی خواب پلکوں پہ سجائے تھے۔ امن و آشتی، سرمایہ و سکون، عزت و منزلت اور راحت و آرام کو گھر کے آنگن میں اترتے دیکھا تھا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ… دسمبر کا آخری پہر ہے۔ یوں لگتا ہے رفتارِ زمانہ رک گئی ہے۔ ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں 2016ء کے آخر میں تھے۔ سکون بدستور معدوم ہے۔ عزت کسی اور کے گھر کی لونڈی ہے۔ آشتی کا جنازہ کاندھوں پر ہے۔جہالت کی وہ تاریکیاں مزید گہری ہو گئی ہیں جنہیں بھگانے کے لیے ارمان کی شمعیں جلائی گئی تھیں۔ دسمبر کی کہر آلود شامیں بتا رہی ہیں کہ قریب بعید ہو چکا اور جو بعید تھا وہ بدستور بعید تر ہے۔
انصاف کے جنگل میں ظلم و ستم کا مہیب رقص جاری ہے۔ غربت کے اسیر، سرمایہ داریت کی بھینٹ چڑھنے کو تیار ہیں۔ زیست کی لَو ٹمٹما رہی ہے۔ اندھیرا اتنا گہرا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا۔ پھر بھی امید کا دِیا روشن ہے۔ ستاروں پہ کمند ڈالنے والے کچھ لوگ ابھی زندہ ہیں۔ سالِ نو کا پیغام انہی کے نام ہے۔ ان نوجوانوں کے نام… جن کے سینے میں پوری امت کا درد ہے۔ جنہوں نے منافقت کی دہشت نگری میں آنکھ کھولی۔طعن و تشنیع کے دھماکوں کی لوریاں سنیں۔ دشمنی کے بارود کی بو سونگھتے لڑکپن گزارا۔ عدل و مساوات کے کٹے پھٹے لاشے دیکھتے جوان ہوئے۔ سالِ نو کا پیغام انہی جوانوں کے نام ہے ، جنہیں دوسروں کے کل کے لیے اپنا آج تج دینا ہے۔ جنہیں اپنی آرزوؤں، امنگوں اور چاہتوں کا خون کرنا ہے۔ بھائی بہنوں کی خاطر ، آئندہ نسلوں کی خاطر، وطنِ عزیز کی خاطر، امت محمدیہ کے روشن مستقبل کی خاطر…
آنے والا سال زبانِ حال سے کہہ رہا ہے تمہیں سنِ گذشتہ میں مطلوبہ اہداف کیوں نہ حاصل ہو سکے؟ ذرا اپنے ماضی پر نظر دوڑائیے۔ دیکھیے کہاں غلطی ہوئی ہے؟ کون سی لغزش ہوئی اور کتنی ہوئی؟ اس کے اسباب کیا تھے؟ دوسرے الفاظ میں اپنا محاسبہ کیجیے۔ ان اغلاط کی فہرست بنائیے۔ اور ابھی سے ٹھان لیجیے کہ اس مرتبہ یہ غلطیاں نہیں کریں گے۔ اپنے نفس کو جھنجوڑیں گے۔ ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں گے۔ مایوسیاں بھگائیں گے۔سابقہ کردہ خطائیں نہیں دہرائیں گے۔ محتاط زندگی گزاریں گے۔ اخلاق بلند کریں گے۔ احساسِ ذمہ داری پیدا کریں گے۔ کچھ بننے کے قابل ہوں گے۔ تعلیم و تعلم اور ہنر و فن کے میدانوں میں اپنا لوہا منوائیں گے۔ کچھ ایسا کریں گے کہ اس سال میں پورے نہ سہی کچھ اہداف ضرور حاصل کر سکیں۔ نئے دوست نہ سہی، نئے دشمن نہیں بنائیں گے۔ اخوت، مساوات اور بھائی چارے کا علم بلند رکھیں گے۔
سالِ نو کہہ رہا ہے ’’اپنا ایک وژن بنائیں۔ خیالی دنیا میں کھونے کی بجائے ایک مقصد بنائیں، موقف اپنائیں، منزل چُنیں اور پھر اس کے حصول میں جُت جائیں۔ اپنا وژن ایک کاغذ پر لکھیں اور اس کاغذ کو ہمہ وقت اپنے پاس رکھیں۔ دن میں ایک دو مرتبہ اسے کھول کر پڑھیں۔ عزائم کو دہرائیں۔ اس طرح سبق تازہ اورمزاج میں استقلال رہے گا۔ کچھ کر گزرنے کا جذبہ بیدار رہے گا۔ ورنہ کچھ عرصے بعد قرطاسِ ذہنی سے مقصد اصلی محو ہو جائے گا اور منزل مزید دور ہوتی چلی جائے گی۔
اپنے وژن کے راستے میں آنے والی رکاوٹیں اور آسانیاں بھی مدنظر رہیں۔ اس طرح مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی رہے گی۔اس کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی رہے کہ بعض مسائل و ادراک ’’سپیڈ بریکرز‘‘ کی مانند ہوتے ہیں۔ جنہیں پار کرنے کے لیے طاقت اور جوش کی نہیں ، سمجھ داری اور حوصلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور بعض مسائل راستے پر لگے سائن بورڈز کی طرح ہوتے ہیں کہ اگر ان کی طرف توجہ کی تو دنیا کی شاہراہ پر زندگی کی گاڑی کا حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔ منزل ہمیشہ کے لیے دور ہو سکتی ہے۔ اس لیے مسائل کی نوعیت سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر اسی نوعیت کے مطابق انہیں حل کیا جائے۔
وقت کی قدر کرنی ہوگی۔ نظام الاوقات ترتیب دینا ہوگا۔ پورا سال ایسے گزارنا ہوگا کہ کوئی بھی لمحہ ضائع نہ ہونے پائے۔ ورنہ لمحوں کی یہ خطا، صدیوںکو سزا دیتی ہے۔ اپنا وقت ضائع کرنا ہے اور نہ ہی کسی کا۔ ہر چیز کو اس کی حیثیت کے مطابق وقت دینا ہے۔ خاندان، دوست، رشتہ دار، تعلق دار، مقصد اور اپنی ذات ، سب کا خیال رکھنا ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو منزل کی جستجو میں بھٹکنا نہیں پڑے گا، وہ خود پکارے گی۔
نیز اپنے اہداف بھی متعین کرنے ہوں گے۔ اس سے حوصلے جواں اور عزائم بیدار رہتے ہیں۔ ورنہ مسلسل محنت انسان کو تھکا دیتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے راستے کے سنگِ میل۔ جنہیں دیکھ کر پتا چلتا جاتا ہے کہ ہمارا کتنا سفر طے ہو گیا اور کتنا باقی ہے؟ اگر سنگ میل نہ ہوں تو مسافر چلتا چلتا تھک جائے۔ اور جب مطلوبہ ہدف پورا ہو جائے تو اُس ذاتِ کریم کے آگے سربسجود ہونا بھی لازم ہے جس کی معیت اور نصرت نے یہاں تک پہنچایا۔ نیز اُن دوستوں کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے جنہوں نے آپ کے راہ سے کانٹے چنے اور ہدف کا حصول ممکن بنایا۔ حدیث مبارکہ ہے من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ، جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے بڑوں سے مشورہ، ان کی دعائیں اور رب کریم کی نصرت ضروری امر ہوتا ہے۔تاکہ تجربات کی بے موقع بھٹیوں میں پگھلنا نہ پڑے اور صلاحیتیں بے مقصد خرچ نہ ہو جائیں۔‘‘

 نیا سال ہم سے کیا کہہ رہا ہے؟؟

تحریر: عبدالصبور شاکر فاروقی


ماتا ہری بیسویں صدی کی نام ور جاسوسہ تھی۔ پہلی جنگ عظیم کا تذکرہ جب بھی چھڑے، اس کا نام سرفہرست ہوتا ہے۔ جرمن اور اتحادی بیک وقت اسے اپنی ملازمہ سمجھتے تھے۔ اس نے دونوں جانب کے سینکڑوں فوجی اور اتحادیوں کا ایک اہم جاسوس مروایا، نیز جرمنی کی دو اہم آبدوزیںبھی غرق آب کروائیں۔ یہ 1876 ء کو ہالینڈ میں پیدا ہوئی۔ جوان ہوئی تو میکلوڈ نامی ایک سپاہی سے بیاہی گئی۔ سیلانی طبیعت کی وجہ سے شادی ناکام ہوئی تو رقص سیکھنے لگی۔ حسین تو تھی ہی، رقص نے اسے ایک بگولہ بنا دیا، پھر مشرقی رقص کی سان پر چڑھی تو کٹیلا خنجر بن گئی۔ اس کے چرچے اونچے درجے کی بزموں میں ہونے لگے۔ عام آدمی سے لے کر حکمران تک اور تاجر سے پیشہ ور سپاہی تک ہر شخص اس کی تمنا کرنے لگا۔
یہی مقبولیت اسے برلن لے گئی جہاں اس کی ملاقات ایک جرمن پولیس آفیسر سے ہوئی۔ جس نے اس کے حسن و شباب اور طرب و فن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے پیسوں کا لالچ دے کر جاسوسی کی صف میں لے آیا، تربیت دی اور ایچ 21 کا کوڈ نام دے کر پیرس بھیج دیا۔ یوں اس کی زندگی کا وہ بھیانک باب شروع ہوا جو اس کی جان کے خاتمے پر ہی بند ہو سکا۔
یہ انتہائی شاطر اور چالباز عورت تھی۔ شرابِ محبت لنڈھا کر بڑے بڑے لوگوں سے راز اگلوانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ لیکن یہ جاسوسی میں مخلص نہیں تھی۔ اس کا مقصد دولت کمانا تھا، سو اس نے اپنا یہ مقصد پورا کیا۔ سن1904ء میں جب یہ فرانس آئی تو یہاں کے ایک پولیس افسر لاروس پر ڈورے ڈالے اور اسے اپنے جال میں پھنسا لیا۔ لیکن اہداف و مقاصد میں مخلص نہ ہونے اور طبیعت کی غیرسنجیدگی کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس کی باتوں میں آ کر ’’ڈبل کراس‘‘ بن بیٹھی۔ دونوں جانب کے ممالک سے پیسہ کمانے کا لالچ اسے بہت مہنگا پڑا۔ کیونکہ دو کشتیوں کا مسافر ایک نہ ایک دن ضرور خمیازہ بھگتتا ہے۔ 1917ء میں اس کی حقیقت کھل گئی۔ یہ کسی وطن کے ساتھ مخلص نہ تھی، جو اس کی زیادہ قیمت لگاتا، یہ اسی کی ہو جاتی ۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام راز اور خفیہ فوجی راز بھی اسی پلڑے میں جا گرتے ۔ چنانچہ 13، اکتوبر 1917ء کی ایک روشن صبح کو اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا۔ اس کا بہترین دوست لاروس ہی اس کی موت کے پروانے پر دستخط کر کے لایا اور اسے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ یہ جرمن حکومت اور جان چھڑکنے والے دوستوں کو پکارتی رہی لیکن اس کی حرکات و عادات کی بنا پر سب لوگ شتر مرغ کی مانند ریت میں سر دیے سوتے رہے۔
ماتا ہری کی زندگی آج کے نوجوانوں کے لئے ایک اہم سبق کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو لوگ واضح مقاصد و اہداف نہیں رکھتے ان کی حالت بہت بری ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی جان جیسی عظیم الشان چیز کی قربانی دے کر بھی کہیں نیک نامی سے یاد نہیں کیے جاتے۔ ناکامی و شکست ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ تاریخ کے گرداب میں پھنس کر یاد ماضی بن جاتے ہیں۔ مال و دولت کی ہوس آری بن کر حسن اخلاق، حب الوطنی اور احساس مروت کو کاٹ ڈالتی ہے۔ دل جمعی کا فقدان اتنی گہری کھائیوں میں دھکیل دیتا ہے، جہاں سے واپس لانا کسی کے بس میں نہیں رہتا۔ وقت ضائع کرنے کے چکر میں انسان خود گھن چکر بن کر رہ جاتا ہے۔ دھوکا، فراڈ اور منافقت ہمدموں کے دل سے ہمدردیاں نوچ ڈالتا ہے۔ اپنے پرائے ہو جاتے ہیں اور قریبی دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ کڑی دھوپ میں تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے، بے گانے تو خیر بے گانے ہوتے ہیں۔
نیا سال ہمیں پیغام دے رہا ہے، اگر تم میرا درست استعمال نہیں کرو گے تو کل تمہیں کوئی اور استعمال کر لے گا۔ کامیابی و کامرانی کی حیثیت سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ ابھی سے چھوٹے چھوٹے اہداف طے کرو، پھر انہیں پانے کے لئے صبح شام، دن رات ایک کر دو۔ ناکامی کا لفظ اپنی ڈکشنری سے نکال دو۔ منزلیں تمہاری انتظار میں ہیں۔ ورنہ ماتا ہری کی طرح کف افسوس ملنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا کیونکہ؎
محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا
دریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا
ہمدردی و خلوص کا بیج کاشت کرو گے تو جواباً بھی خلوص و ہمدردی کے پھول ملیں گے۔ ورنہ کانٹوں کے تاجروں کی بوریوں سے گلاب نہیں ملا کرتے۔ سچائی کا ذائقہ کڑوا ہونے کے باوجود صحت افزا ہوتا ہے۔ خوش اخلاقی اہل جہاں کی نظر میں محبوب بنا دیتی ہے۔ خدمت خلق دوسرے دلوں کی دھڑکن بنا دیتی ہے۔ جبکہ خود غرض شخص سے ہر کوئی پناہ مانگتا ہے۔ بے مروت کے دوست کم اور دشمن وافر مقدار میں پیدا ہو جاتے ہیں۔
ماتا ہری نے اپنی جوانی و حسن کو دائمی سمجھ لیا تھا، لیکن جب اس جنس کی شام ہونے لگی،تو قیمت بھی گر گئی۔ اب وہ اہل جہاں کی نظر میں چلے ہوئے کارتوس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھیتی تھی۔نیا سال پیغام دے رہا ہے کہ ا اس سے پہلے کہ ہماری طاقت و جوانی ڈھلنے لگے ، ہمیں اپنے سارے کام سمیٹ لینے چاہئیں۔ خواہ ہم دنیا کما نا چاہ رہے ہیں یا آخرت؟ ہر صورت میں ہمیں آج کا کام آج اور ابھی کرنا ہے۔ ورنہ وقت کسی کا نہیں ہوتا۔ کل کو کف افسوس ملنے سے بہتر ہے آج ہم اپنی ہتھیلیاں محنت کے ذریعے گرم رکھیں۔ سچ کہا علامہ مرحوم نے ؎
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اگر اس سال بھی اپنا طرز زندگی، اپنے قول و فعل اور علم و عمل میں تبدیلی نہ لا سکے تو سمجھیں ہم بے مقصد زندگی جی رہے ہیں اور ایسی زندگی کا کیا فائدہ؟؟؟
٭٭٭