منگل، 31 جنوری، 2017

Zavia e nigah زاویہ نگاہ


"زاویہ نگاہ"

تحریر :عبدالصبور شاکر

ظہیر عباس میرا کلاس فیلو تھا. پوری کلاس میں اگر مجھے کسی پر رشک آتا تھا تو وہ یہی شخص تھا.
ہر امتحان میں فرسٹ آنا اور فرفر انگریزی بولنا اس کا مشغلہ تھا.
لیکن اس میں ایک خامی بھی تھی. کہ
یہ ایک عجیب انسان تھا. یوں کہہ سکتے ہیں کہ ذہانت اور بے وقوفی کا حسین امتزاج تھا

اتنا ذہین ہونے کے باوجود کبھی کبھی ایسی بات کر دیتا کہ سننے والوں کو اس کی عقل کے صحیح ہونے پر شک پڑنے لگتا.

ایک مرتبہ اپنے ساتھی طلباء سے پوچھنے لگا :
"دوستو! اگر آپ کی بہن آپ کے سامنے کپڑے اتار رہی ہو تو آپ کیا کریں گے؟ اسے ماریں گے، یا اس کی مدد کریں گے؟ "
تمام لڑکے اس کا بے وقوفانہ سوال سن کر ہنسنے لگے.

جماعت میں ہوتا شور سن کر ایک استاذ صاحب ادھر آ گئے.
اور استفسار کیا تو لڑکوں نے ظہیر کی بے وقوفی کی داستان سنا دی

لیکن ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب استاد صاحب نے بھی اسی کی طرف داری کرتے ہوئے فرمایا کہ
" واقعی! ظہیر کی بات درست ہے. تمہیں اس کے بارے میں کچھ بتانا چاہیے "
ساتھ ہی انہوں نے آخر میں بیٹھے ایک لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "تم بتاؤ"

لڑکے نے کھڑے ہو کر ادھر ادھر دیکھا اور جواب دیا کہ "سر! اگر میری بہن میرے سامنے ایسی حرکت کرنے کی کوشش کرے گی تو میں اسے جان سے مار دوں گا "

پھر کئی لڑکوں سے پوچھا گیا تو سب کا جواب اسی جواب سے ملتا جلتا تھا

پھر استاذ صاحب نے ظہیر کو دعوت دی کہ تم خود اس کے بارے میں بتاؤ.

ظہیر کا جواب ہم جماعتوں سے مختلف تھا
کہنے لگا "سر! میں اپنی بہن کی مدد کروں گا ".
کلاس میں ایک بار پھر قہقہہ گونجا لیکن استاذ صاحب سنجیدہ تھے.
جسے دیکھ کر کلاس میں خاموشی چھا گئی.

"ظہیر درست کہہ رہا ہے "
استاذ صاحب نے جواب دیا

"لیکن سر ہمیں ظہیر اور اپنے جواب میں فرق تو سمجھا دیں پلیز "
ایک لڑکے نے درخواست کی.

استاذ صاحب نے فرمایا :

" بیٹا! بہت زیادہ فرق ہے.
سوچ کا فرق، طبیعت کا فرق، میلان کا فرق اور مزاج کا فرق.
پہلا جواب منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، ایسا جواب دینے والے معاشرے کے وہ افراد ہیں کہ اگر ان کے سامنے میٹھا حلوہ رکھ کر اس میں ایک دانہ سیاہ مرچ کا ڈال دیا جائے تو ہمیشہ اسی سیاہ مرچ کا تذکرہ کرتے نظر آئیں گے، ان کی نظر اس میٹھے سے بھری پلیٹ کی کی جانب نہیں ہوگی.
ایسی سوچ اس مکھی کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے جو سارے تندرست بدن کو چھوڑ کر صرف زخم پر جا بیٹھتی ہے.

یہ سوچ انسانی معاشرے کو بے انصافی اور منافقت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا دھکیلتی ہے.
انسان کو آس پڑوس میں ہونے والے تعمیری امور نظر نہیں آتے بلکہ اس کا زاویہ نگاہ "ویک پوائنٹس" پر جا ٹھہرتا ہے.
انسان اپنی غلطیوں پر غور کرنے کی بجائے دوسروں کے عیوب کی چھان پھٹک میں لگ جاتا ہے،
پھر اسے راہ میں پڑے کنکر میں بھی گورنمنٹ کی خرابی نظر آ جاتی ہے جبکہ اپنے گھر کے سامنے بنے ذاتی سپیڈ بریکر میں بھی لوگوں کی بھلائی معلوم ہوتی ہے.

اسے اپنے علاوہ ہر بندہ کام چور اور ہر صاحبِ فن ریاکار نظر آتا ہے.

اس کی آنکھوں پر انا پرستی کی پٹی بندھ جاتی ہے
جو اس سے اس کے اپنے عیوب چھپا دیتی ہے اور دوسروں کے یوں ظاہر کر دیتی ہے جیسے خفیہ کیمرے دن رات کی رپورٹ دیا کرتے ہیں.

یہ سوچ انسان کو بداعتمادی کا مریض بنا دیتی ہے.

ہمچوں ما دیگرے نیست
اس کا ماٹو بن جاتا ہے.

جبکہ دوسرا جواب مثبت سوچ کا پتہ دے رہا ہے، ایسی سوچ والے افراد ہی دنیا میں ترقی کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس دوسروں پر نکتہ چینی کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا،
یہی لوگ کامیابی کے زینے بڑی تیزی سے طے کرتے ہیں."

لیکن سر! ظہیر کا جواب درست کیسے ہے؟ "
ایک طالب علم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا

" بیٹا! یہ تو بڑی آسان سی بات ہے. ظہیر کی بہن نے کپڑے سکھانے کے لئے تار پر ڈالے ہوئے تھے، انہیں اس نے ظہیر کے سامنے اتارنا شروع کیا تو ظہیر بھی اس کی مدد کرنے لگا.

بس یہی میں کہتا ہوں اپنے دامن کو بدگمانی، بداعتمادی اور منفی سوچ سے بچاؤ، ورنہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاؤ گے، تمہارا بیشتر وقت فضول تفکرات میں بیت جائے گا اور مثبت امور پر سوچنے کا موقع پر لگا کر اڑ جائے گا. "

درج بالا ویڈیو یہی درس دے رہی ہے، سفید تختے پر لگے ایک سیاہ نقطے نے منفی سوچ حامل طلباء کی تمام تر توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی
جبکہ مثبت سوچ کے حامل افراد نے ایک باریک نقطے کی جانب کوئی توجہ ہی نہیں کی تھی

جب تک نہ تھی اپنے عیبوں پر نظر، رہا دیکھتا آوروں کے عیب وہنر

جب پڑی اپنی برائیوں پہ نظر، تو نظر میں کوئی برا نہ رہا

Children and our responsibilities احساس زیاں


"احساس زیاں "

تحریر : عبدالصبور شاکر


"کدھر سے آنا ہوا؟ "
غصے میں کھولتے باپ نے جب رات گئے آنے والے اپنے جوان بیٹے سے پوچھا تو بیٹے نے دوستوں کے ساتھ پڑھائی کا بہانہ کر دیا.
جب کئی راتوں تک باپ بیٹے کے مابین اس سے ملتا جلتا مکالمہ چلا تو اس کا نتیجہ نہایت خوفناک صورت میں برآمد ہوا.

اگلی صبح جب ماں اپنے بیٹے کو جگانے کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی چیخیں نکل گئیں

کمرے میں اس کے بیٹے کی جگہ اس کی لاش پڑی تھی، ساتھ ہی ایک رقعہ رکھا تھا جو اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ صاحبزادے نے روز کی جھک جھک سے تنگ آ کر خود کشی کر لی ہے

ایک رسالے میں جب یہ واقعہ پڑھا تو ذہن نجانے کن خیالوں میں جا نکلا؟

زندگی چند امور کا نام ہے. اگر ان میں سے کسی کو بھی چھوڑنے کی کوشش کی جائے تو یہ پھیکے پن کا شکار ہو جاتی ہے
اسی طرح زندگی میں چند رشتے ایسے ہیں کہ اگر انہیں نظر انداز کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ صرف زندگی کا مزہ پھیکا پڑ جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رشتوں کا رنگ بھی اڑ جاتا ہے جس کا نتیجہ کسی نہ کسی موڑ پر تنہائی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے.

مغربی تقلید کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ہمارا معاشرہ رشتوں کی رنگینی سے لطف اندوز ہونا بھولتا جا رہا ہے، والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے انہیں وقت نہیں دے پاتے، جبکہ بچے اپنے دوستوں کی وجہ سے والدین سے دور ہوتے جا رہے ہیں.

دونوں فریقوں کے پاس وقت کی انتہائی کمی ہے، اور یہ خلیج اتنی تیزی سے وسیع ہوتی جا رہی ہے کہ اگر بروقت اس کے تدارک کی کوشش نہ کی گئی تو بعید نہیں کچھ عرصے بعد بچے اپنے والدین کو صرف ویک اینڈ پر ہی مل پائیں گے.
یا پھر خدا نخواستہ وہ دور آ جائے کہ بچے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے لگ جائیں اور ہماری ملی، قومی، معاشرتی، اور اسلامی روایات یوں دب جائیں جیسے یورپ و اہل مغرب کی روایات سائنس کی ترقی میں کہیں ڈوب چکی ہیں.

صرف یہی نہیں کہ والدین کی مصروفیات کی بنا پر ان کے لئے اپنے بچوں کی خاطر وقت نکالنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس بلائے ناگہانی نے اس کے ضمن میں کئی دیگر مسائل کو بھی جنم دے دیا ہے
مثلاً :
🔷بچے اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے ایسے ایسے بکھیڑوں میں پڑ رہے ہیں جن کے بارے میں محض سوچنا بھی چند سال قبل دشوار تھا.
گذشتہ دنوں اپنی معلمہ کے عشق میں مبتلا ساتویں جماعت کے بچے کی خودکشی اس کی بدترین مثال ہے
یہ محض غلط تربیت کا نتیجہ ہے، اور بچے کی اس جان لیوا غلطی میں جہاں میڈیا، ماحول اور دوست انوالو ہیں وہیں اس کی موت کے ذمہ دار والدین بھی ہیں، جو اتنی بات پر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں کہ "ہماری ساری محنت انہی کا مستقبل سنوارنے ہی کے لیے تو ہے"

یا ان کا یوں کہنا کہ
"اب ہمارے بچے میچور ہو گئے ہیں، انہیں سمجھانے کی اب ہمیں کوئی ضرورت نہیں "

🔷ایک اور چیز جس نے اسی مسئلے سے جنم لیا ہے وہ ہے، اپنے مذہب و نظریات اور اقدار سے دوری،
سکول میں مذہب کی تعلیم آٹے میں نمک برابر بھی نہیں ہے اور گھر کا ماحول اسلامی نہیں ہے، نہلے پہ دہلا یہ کہ والدین اپنے بچوں کو وقت نہیں دے پاتے، نتیجتاً بچے انتہائی بنیادی اسلامی تعلیمات بھی کورے ہوتے جا رہے ہیں

🔷والدین کی توجہ نہ ہونے کی بنا پر بچے اپنے قریبی رشتوں کی پہچان بھولتے جا رہے ہیں، انہیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ والدہ کے بعد کون سا رشتہ اس کے لیے زیادہ اہم ہے؟ ، اور دیگر رشتہ داروں کے کون سے حقوق اس پر لازم ہیں؟

🔷سارا دن اپنے ملازمین یا گلی محلہ کے آوارہ بچوں کی صحبت، بچوں پر خوب رنگ چڑھاتی ہے. جس کے نتیجے میں بچوں کے وہ اخلاقی تربیت ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ،
گالیاں دینا، گلی محلے کے عزت داروں پر آوازے کسنا انہیں اپنا مشغلہ معلوم ہوتا ہے.

🔷وقت گزاری کے لیے بچے کارٹون اور ویڈیو گیمز کا سہارا لیتے ہیں جو کئی ناجائز امور کا مجموعہ ہوتے ہیں،
بچوں کا لاشعور ان کے بیک ڈور پیغام کو غیر محسوس انداز میں قبول کر لیتا ہے، جس کا نتیجہ وقتا فوقتاً قتل وغارت، ڈاکہ زنی، خود کشی اور مار دھاڑ کی صورت میں نکلتا رہتا ہے.
اور ہم اے سی کی ٹھنڈی یخ بستہ ہواؤں میں بیٹھے حیرانگی کے ساتھ کہہ رہے ہوتے ہیں،
"پتہ نہیں! ان بچوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ہمارے دور میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا"


غور کیا جائے تو اس سے ملتے جلتے ہزاروں مسائل ایسے ہیں جو ہماری اس بے اعتدالی کے سبب، نہ صرف دن بدن پیدا ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ان میں روز افزوں خوفناک ترقی بھی ہو رہی ہے

وقت کسی کو مہلت نہیں دیتا، اگر ہم نے اس مسئلہ پر قابو نہ پایا تو یقین کیجئے چند سالوں بعد ہمیں بھی اہل مغرب کی طرح اپنی اولاد سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں.

ہماری آنے والی نسلیں ہمارے بھی آخری ایام اولڈ ہومز میں گزروائیں گی،

شادیاں اپنی مرضی سے کریں گی اور اپنے والدین کی خدمت کرنے پر ان سے معاوضہ طلب کریں گی.

دوستو! اس بارے میں ہمیں اجتماعی شعور بیدار کرنا ہوگا

بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھر پور توجہ دینا ہوگی

انہیں انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز کی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا میں لانا ہو گا

اپنے وقت میں سے ایک حصہ ان کے لئے مختص کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمارے ساتھ مانوس ہوں، اجنبیت ختم ہو، اور وہ اپنی باتیں، اپنے مسائل ہمارے ساتھ شئر کر سکیں.

وہ ہمیں اپنا ہمدرد سمجھیں نہ کہ محض سرپرست، جو ان کے لئے سرمایہ مہیا کرتا ہے

یاد رکھیں!
اگر ہم نے یہ نادر موقع گنوا دیا تو پھر ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا،
کیونکہ

خود اپنی ہی جڑوں پر ہی چلاتی ہے درانتی
بربادی احساس نمو مانگ رہی ہے