"زاویہ نگاہ"
تحریر :عبدالصبور شاکر
ظہیر عباس میرا کلاس فیلو تھا. پوری کلاس میں اگر مجھے کسی پر رشک آتا تھا تو وہ یہی شخص تھا.
ہر امتحان میں فرسٹ آنا اور فرفر انگریزی بولنا اس کا مشغلہ تھا.
لیکن اس میں ایک خامی بھی تھی. کہ
یہ ایک عجیب انسان تھا. یوں کہہ سکتے ہیں کہ ذہانت اور بے وقوفی کا حسین امتزاج تھا
اتنا ذہین ہونے کے باوجود کبھی کبھی ایسی بات کر دیتا کہ سننے والوں کو اس کی عقل کے صحیح ہونے پر شک پڑنے لگتا.
ایک مرتبہ اپنے ساتھی طلباء سے پوچھنے لگا :
"دوستو! اگر آپ کی بہن آپ کے سامنے کپڑے اتار رہی ہو تو آپ کیا کریں گے؟ اسے ماریں گے، یا اس کی مدد کریں گے؟ "
تمام لڑکے اس کا بے وقوفانہ سوال سن کر ہنسنے لگے.
جماعت میں ہوتا شور سن کر ایک استاذ صاحب ادھر آ گئے.
اور استفسار کیا تو لڑکوں نے ظہیر کی بے وقوفی کی داستان سنا دی
لیکن ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب استاد صاحب نے بھی اسی کی طرف داری کرتے ہوئے فرمایا کہ
" واقعی! ظہیر کی بات درست ہے. تمہیں اس کے بارے میں کچھ بتانا چاہیے "
ساتھ ہی انہوں نے آخر میں بیٹھے ایک لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "تم بتاؤ"
لڑکے نے کھڑے ہو کر ادھر ادھر دیکھا اور جواب دیا کہ "سر! اگر میری بہن میرے سامنے ایسی حرکت کرنے کی کوشش کرے گی تو میں اسے جان سے مار دوں گا "
پھر کئی لڑکوں سے پوچھا گیا تو سب کا جواب اسی جواب سے ملتا جلتا تھا
پھر استاذ صاحب نے ظہیر کو دعوت دی کہ تم خود اس کے بارے میں بتاؤ.
ظہیر کا جواب ہم جماعتوں سے مختلف تھا
کہنے لگا "سر! میں اپنی بہن کی مدد کروں گا ".
کلاس میں ایک بار پھر قہقہہ گونجا لیکن استاذ صاحب سنجیدہ تھے.
جسے دیکھ کر کلاس میں خاموشی چھا گئی.
"ظہیر درست کہہ رہا ہے "
استاذ صاحب نے جواب دیا
"لیکن سر ہمیں ظہیر اور اپنے جواب میں فرق تو سمجھا دیں پلیز "
ایک لڑکے نے درخواست کی.
استاذ صاحب نے فرمایا :
" بیٹا! بہت زیادہ فرق ہے.
سوچ کا فرق، طبیعت کا فرق، میلان کا فرق اور مزاج کا فرق.
پہلا جواب منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، ایسا جواب دینے والے معاشرے کے وہ افراد ہیں کہ اگر ان کے سامنے میٹھا حلوہ رکھ کر اس میں ایک دانہ سیاہ مرچ کا ڈال دیا جائے تو ہمیشہ اسی سیاہ مرچ کا تذکرہ کرتے نظر آئیں گے، ان کی نظر اس میٹھے سے بھری پلیٹ کی کی جانب نہیں ہوگی.
ایسی سوچ اس مکھی کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے جو سارے تندرست بدن کو چھوڑ کر صرف زخم پر جا بیٹھتی ہے.
یہ سوچ انسانی معاشرے کو بے انصافی اور منافقت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا دھکیلتی ہے.
انسان کو آس پڑوس میں ہونے والے تعمیری امور نظر نہیں آتے بلکہ اس کا زاویہ نگاہ "ویک پوائنٹس" پر جا ٹھہرتا ہے.
انسان اپنی غلطیوں پر غور کرنے کی بجائے دوسروں کے عیوب کی چھان پھٹک میں لگ جاتا ہے،
پھر اسے راہ میں پڑے کنکر میں بھی گورنمنٹ کی خرابی نظر آ جاتی ہے جبکہ اپنے گھر کے سامنے بنے ذاتی سپیڈ بریکر میں بھی لوگوں کی بھلائی معلوم ہوتی ہے.
اسے اپنے علاوہ ہر بندہ کام چور اور ہر صاحبِ فن ریاکار نظر آتا ہے.
اس کی آنکھوں پر انا پرستی کی پٹی بندھ جاتی ہے
جو اس سے اس کے اپنے عیوب چھپا دیتی ہے اور دوسروں کے یوں ظاہر کر دیتی ہے جیسے خفیہ کیمرے دن رات کی رپورٹ دیا کرتے ہیں.
یہ سوچ انسان کو بداعتمادی کا مریض بنا دیتی ہے.
ہمچوں ما دیگرے نیست
اس کا ماٹو بن جاتا ہے.
جبکہ دوسرا جواب مثبت سوچ کا پتہ دے رہا ہے، ایسی سوچ والے افراد ہی دنیا میں ترقی کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس دوسروں پر نکتہ چینی کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا،
یہی لوگ کامیابی کے زینے بڑی تیزی سے طے کرتے ہیں."
لیکن سر! ظہیر کا جواب درست کیسے ہے؟ "
ایک طالب علم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
" بیٹا! یہ تو بڑی آسان سی بات ہے. ظہیر کی بہن نے کپڑے سکھانے کے لئے تار پر ڈالے ہوئے تھے، انہیں اس نے ظہیر کے سامنے اتارنا شروع کیا تو ظہیر بھی اس کی مدد کرنے لگا.
بس یہی میں کہتا ہوں اپنے دامن کو بدگمانی، بداعتمادی اور منفی سوچ سے بچاؤ، ورنہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاؤ گے، تمہارا بیشتر وقت فضول تفکرات میں بیت جائے گا اور مثبت امور پر سوچنے کا موقع پر لگا کر اڑ جائے گا. "
درج بالا ویڈیو یہی درس دے رہی ہے، سفید تختے پر لگے ایک سیاہ نقطے نے منفی سوچ حامل طلباء کی تمام تر توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی
جبکہ مثبت سوچ کے حامل افراد نے ایک باریک نقطے کی جانب کوئی توجہ ہی نہیں کی تھی
جب تک نہ تھی اپنے عیبوں پر نظر، رہا دیکھتا آوروں کے عیب وہنر
جب پڑی اپنی برائیوں پہ نظر، تو نظر میں کوئی برا نہ رہا