"احساس زیاں "
تحریر : عبدالصبور شاکر
"کدھر سے آنا ہوا؟ "
غصے میں کھولتے باپ نے جب رات گئے آنے والے اپنے جوان بیٹے سے پوچھا تو بیٹے نے دوستوں کے ساتھ پڑھائی کا بہانہ کر دیا.
جب کئی راتوں تک باپ بیٹے کے مابین اس سے ملتا جلتا مکالمہ چلا تو اس کا نتیجہ نہایت خوفناک صورت میں برآمد ہوا.
اگلی صبح جب ماں اپنے بیٹے کو جگانے کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی چیخیں نکل گئیں
کمرے میں اس کے بیٹے کی جگہ اس کی لاش پڑی تھی، ساتھ ہی ایک رقعہ رکھا تھا جو اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ صاحبزادے نے روز کی جھک جھک سے تنگ آ کر خود کشی کر لی ہے
ایک رسالے میں جب یہ واقعہ پڑھا تو ذہن نجانے کن خیالوں میں جا نکلا؟
زندگی چند امور کا نام ہے. اگر ان میں سے کسی کو بھی چھوڑنے کی کوشش کی جائے تو یہ پھیکے پن کا شکار ہو جاتی ہے
اسی طرح زندگی میں چند رشتے ایسے ہیں کہ اگر انہیں نظر انداز کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ صرف زندگی کا مزہ پھیکا پڑ جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رشتوں کا رنگ بھی اڑ جاتا ہے جس کا نتیجہ کسی نہ کسی موڑ پر تنہائی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے.
مغربی تقلید کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ہمارا معاشرہ رشتوں کی رنگینی سے لطف اندوز ہونا بھولتا جا رہا ہے، والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے انہیں وقت نہیں دے پاتے، جبکہ بچے اپنے دوستوں کی وجہ سے والدین سے دور ہوتے جا رہے ہیں.
دونوں فریقوں کے پاس وقت کی انتہائی کمی ہے، اور یہ خلیج اتنی تیزی سے وسیع ہوتی جا رہی ہے کہ اگر بروقت اس کے تدارک کی کوشش نہ کی گئی تو بعید نہیں کچھ عرصے بعد بچے اپنے والدین کو صرف ویک اینڈ پر ہی مل پائیں گے.
یا پھر خدا نخواستہ وہ دور آ جائے کہ بچے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے لگ جائیں اور ہماری ملی، قومی، معاشرتی، اور اسلامی روایات یوں دب جائیں جیسے یورپ و اہل مغرب کی روایات سائنس کی ترقی میں کہیں ڈوب چکی ہیں.
صرف یہی نہیں کہ والدین کی مصروفیات کی بنا پر ان کے لئے اپنے بچوں کی خاطر وقت نکالنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس بلائے ناگہانی نے اس کے ضمن میں کئی دیگر مسائل کو بھی جنم دے دیا ہے
مثلاً :
🔷بچے اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے ایسے ایسے بکھیڑوں میں پڑ رہے ہیں جن کے بارے میں محض سوچنا بھی چند سال قبل دشوار تھا.
گذشتہ دنوں اپنی معلمہ کے عشق میں مبتلا ساتویں جماعت کے بچے کی خودکشی اس کی بدترین مثال ہے
یہ محض غلط تربیت کا نتیجہ ہے، اور بچے کی اس جان لیوا غلطی میں جہاں میڈیا، ماحول اور دوست انوالو ہیں وہیں اس کی موت کے ذمہ دار والدین بھی ہیں، جو اتنی بات پر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں کہ "ہماری ساری محنت انہی کا مستقبل سنوارنے ہی کے لیے تو ہے"
یا ان کا یوں کہنا کہ
"اب ہمارے بچے میچور ہو گئے ہیں، انہیں سمجھانے کی اب ہمیں کوئی ضرورت نہیں "
🔷ایک اور چیز جس نے اسی مسئلے سے جنم لیا ہے وہ ہے، اپنے مذہب و نظریات اور اقدار سے دوری،
سکول میں مذہب کی تعلیم آٹے میں نمک برابر بھی نہیں ہے اور گھر کا ماحول اسلامی نہیں ہے، نہلے پہ دہلا یہ کہ والدین اپنے بچوں کو وقت نہیں دے پاتے، نتیجتاً بچے انتہائی بنیادی اسلامی تعلیمات بھی کورے ہوتے جا رہے ہیں
🔷والدین کی توجہ نہ ہونے کی بنا پر بچے اپنے قریبی رشتوں کی پہچان بھولتے جا رہے ہیں، انہیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ والدہ کے بعد کون سا رشتہ اس کے لیے زیادہ اہم ہے؟ ، اور دیگر رشتہ داروں کے کون سے حقوق اس پر لازم ہیں؟
🔷سارا دن اپنے ملازمین یا گلی محلہ کے آوارہ بچوں کی صحبت، بچوں پر خوب رنگ چڑھاتی ہے. جس کے نتیجے میں بچوں کے وہ اخلاقی تربیت ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ،
گالیاں دینا، گلی محلے کے عزت داروں پر آوازے کسنا انہیں اپنا مشغلہ معلوم ہوتا ہے.
🔷وقت گزاری کے لیے بچے کارٹون اور ویڈیو گیمز کا سہارا لیتے ہیں جو کئی ناجائز امور کا مجموعہ ہوتے ہیں،
بچوں کا لاشعور ان کے بیک ڈور پیغام کو غیر محسوس انداز میں قبول کر لیتا ہے، جس کا نتیجہ وقتا فوقتاً قتل وغارت، ڈاکہ زنی، خود کشی اور مار دھاڑ کی صورت میں نکلتا رہتا ہے.
اور ہم اے سی کی ٹھنڈی یخ بستہ ہواؤں میں بیٹھے حیرانگی کے ساتھ کہہ رہے ہوتے ہیں،
"پتہ نہیں! ان بچوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ہمارے دور میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا"
غور کیا جائے تو اس سے ملتے جلتے ہزاروں مسائل ایسے ہیں جو ہماری اس بے اعتدالی کے سبب، نہ صرف دن بدن پیدا ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ان میں روز افزوں خوفناک ترقی بھی ہو رہی ہے
وقت کسی کو مہلت نہیں دیتا، اگر ہم نے اس مسئلہ پر قابو نہ پایا تو یقین کیجئے چند سالوں بعد ہمیں بھی اہل مغرب کی طرح اپنی اولاد سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں.
ہماری آنے والی نسلیں ہمارے بھی آخری ایام اولڈ ہومز میں گزروائیں گی،
شادیاں اپنی مرضی سے کریں گی اور اپنے والدین کی خدمت کرنے پر ان سے معاوضہ طلب کریں گی.
دوستو! اس بارے میں ہمیں اجتماعی شعور بیدار کرنا ہوگا
بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھر پور توجہ دینا ہوگی
انہیں انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز کی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا میں لانا ہو گا
اپنے وقت میں سے ایک حصہ ان کے لئے مختص کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمارے ساتھ مانوس ہوں، اجنبیت ختم ہو، اور وہ اپنی باتیں، اپنے مسائل ہمارے ساتھ شئر کر سکیں.
وہ ہمیں اپنا ہمدرد سمجھیں نہ کہ محض سرپرست، جو ان کے لئے سرمایہ مہیا کرتا ہے
یاد رکھیں!
اگر ہم نے یہ نادر موقع گنوا دیا تو پھر ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا،
کیونکہ
خود اپنی ہی جڑوں پر ہی چلاتی ہے درانتی
بربادی احساس نمو مانگ رہی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں