جمعہ، 30 دسمبر، 2022

عالم اسلام پر حجاب کے اثرات

تحریر: عبدالصبور شاکر فاروقی


 حجاب عربی زبان کا چار حرفی لفظ ہے جسے اردو میں پردہ کہتے ہیں۔ اس کی شکل مختلف علاقوں اور زمانوں کے حساب سے مختلف رہی ہے۔ کہیں برقع پہنا جاتا ہے اور کہیں صرف سر ڈھانپنے کے لیے دوپٹہ یا اسکارف، کہیں جلباب یا عبایا پہنا جاتا ہے اور کہیں ایک بڑی چادر سے پورا جسم ڈھک لیا جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو فرائض تفویض کرتے وقت حجاب کو سب سے مقدم رکھا۔  قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"اے آدم علیہ السلام کے بیٹو اور بیٹیو! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیا ہے جو تمہارے جسم کے ان حصوں کو چھپا سکے جن کا کھولنا برا ہے۔ (الاعراف:26)

 نیز فرمایا:

" اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اور اپنی سجاوٹ کسی پر ظاہر نہ کریں۔ سوائے اس کے جو خود ہی ظاہر ہو جائے۔ اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں۔اور اپنی سجاوٹ اور کسی پر ظاہر نہ کریں۔ (النور:31)

 یہی وجہ ہے کہ تقریباً سوا چودہ سو سال سے اب تک مسلمانوں کی اکثریت حجاب کی نہ صرف قائل رہی ہے بلکہ اس پر عمل پیرا بھی رہی ہے۔ پھر صرف مسلمان ہی نہیں، دوسرے معزز معاشروں اور مذاہب میں بھی پردہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ہندو مذہب میں اس کی اتنی پابندی تھی کہ برہمن خاندانوں کی خواتین اپنے شوہروں سے پردہ کیا کرتیں۔ یہودی اور عیسائی مذہب بھی خواتین کو حدود میں رہنے کی تلقین کرتے۔ لیکن تہذیب جدید کے سیلاب میں بعض پرانی رسومات و اقدار خس و خاشاک کی طرح بہہ نکلے جن میں پردہ سر فہرست ہے۔ خواتین کو پردے سے باہر نکالنا مغرب کی معاشی و اقتصادی مجبوری تھی کہ خانہ جنگی کے سبب مردوں کی اکثریت ہلاک یا معذور ہو گئی۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے گھریلو خواتین کو میدان میں اتارا گیا۔ اس مقصد کے لیے آزادی، مساوات اور ترقی جیسے خوش نما نعرے لگائے گئے۔ انہیں بہت سے سبز باغ دکھائے گئے۔ جس کا مغرب کو وقتی طور پر کچھ فائدہ بھی ہوا کہ ان کی معیشت کی چکی چل پڑی۔ لیکن انہیں اس کے نتیجے میں جن مضمرات کا سامنا کرنا پڑا، اس کا حل مغربی مفکرین کے پاس بالکل بھی نہیں ہے۔ بڑے بڑے دانش ور یہ گتھی سلجھانے بیٹھے ہیں لیکن انہیں کوئی سرا نہیں مل رہا۔

 الحمد للہ عالم اسلام ان خطرات و مضمرات سے فی الحال محفوظ ہے لیکن جس تیزی سے جدت پسندی اسے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے خطرہ ہے یہ بھی مغرب کے اس حسین پھندے میں جا پھنسے گا۔ مغربی مفکرین کے مطابق سب سے زیادہ محفوظ حسب نسب مسلمان خواتین کا ہوتا ہے۔ پردے کے سبب وہ مردوں کی ہوس زدہ نظروں سے محفوظ رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ریپ جیسی لعنت اور ظلم سے محفوظ رہتی ہیں۔ جب کہ عدل و انصاف کے ٹھیکے دار امریکہ کو ریپ کیسز کی شرح میں سب سے اوپر رکھا جاتا ہے کہ وہاں ہر چھ میں سے ایک خاتون اس ظلم کا شکار ہو چکی ہے۔ یاد رہے!!! یہ کیسز زنا بالجبر کے ہیں اور جن کی رپورٹ ہوئی ہے۔ جو رپورٹ کے بغیر رہ گئے یا بالرضا ہوئے، ان کا شمار ہی نہیں ہے۔ ریپ کیسز میں سرفہرست دوسرے نمبر پر برطانیہ ہے جہاں حکومتی رپورٹ کے مطابق ہر سال پچاسی ہزار خواتین ریپ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تیسرے نمبر پر فرانس ہے جو حجاب پر پابندی لگانے میں خونی حدوں کو چھو رہا ہے ۔ یہاں سال میں پچھتر ہزار خواتین ریپ کی شکایت لے کر آتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ شرح دس فی صد ہے باقی نوے فیصد خواتین شرم یا دیگر وجوہات کی بنا پر کیس رجسٹر ہی نہیں کرواتیں۔ اس کے بعد بالترتیب جرمنی، کینیڈا، بھارت، ایتھوپیا اور سری لنکا آتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان ٹاپ ایٹ ممالک میں کوئی بھی مسلمان ملک نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ اردو زبان میں ریپسٹ ممالک کا ڈیٹا نکالنے کی کوشش کریں گے تو رزلٹ میں مسلمان ممالک کو رگیدا گیا ہوتا ہے۔

 حیرت بلکہ افسوس کی بات ہے کہ اس معاملے میں مسلمان ممالک کا لہجہ شرم ناک حد تک معذرت خواہانہ ہے۔ حالانکہ ہمیں چاہیے تھا، ان ممالک سے ایسی آزادی، مساوات اور ترقی کے نتائج کا مواخذہ کرتے، الٹا دفاعی پوزیشن اختیار کیے بیٹھے ہیں۔ جس کی تازہ ترین دو مثالیں پاکستان میں سامنے آئیں۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ریپ وغیرہ کی روک تھام کے لیے خواتین کو مناسب لباس پہننے کی تلقین کی جو قرآن و سنت کے مطابق تھی۔ لیکن اس پر اتنی لے دے ہوئی کہ ان کے دوستوں کو بار بار وضاحتیں دینی پڑیں۔ دوسری مثال پی ٹی وی کی بعض خواتین اینکرز کا عمل تھا جنہوں نے اپنی مرضی سے حجاب اوڑھ کر سکرین پر آنا پسند کیا تو آزادی کے متوالوں نے بھیانک الزامات، ایسے بھونڈے طریقے سے لگائے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری کو آکر وضاحت دینی پڑی کہ حکومت وقت کا اس قضیے میں کوئی کردار نہیں ہے، خواتین کا ذاتی طرز عمل ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ الزامات عائد کرنے والوں سے پوچھا جاتا "کہاں ہے تمہارا نعرہ میرا جسم میری مرضی...؟؟؟ جس کے مطابق کوئی اپنی مرضی سے حجاب پہننا چاہے تو تم اسے روک نہیں سکتے۔ نیز ہمارا مذہب، معاشرہ اور وطن عزیز کا قانون اجازت بلکہ حکم دیتا ہے کہ نامحرم خواتین اپنے جسموں کو ڈھک کر رکھیں۔ جس میں انہیں عبادت کے لیے بھی گھر کے اندرونی حصے منتخب کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کیسے سرعام اپنے جسم کی نمائش کر سکتی ہیں؟

 حجاب کی بنا پر مسلم خواتین دور سے پہچانی جاتی ہیں۔ چنانچہ ہر جگہ انہیں عیسائی مذہبی راہباؤں جتنا احترام دیا جاتا ہے کہ وہ بھی حجاب میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ یہ حجاب ہی کی برکت ہے کہ مسلم ممالک میں ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ کاغذات سے والد کا خانہ ختم کرنا پڑے۔ یہاں اب بھی خواتین کا احترام باقی ہے۔ جزوی طور پر اگر کہیں ان سے زیادتی ہوتی ہے تو وہ بڑی خبر بن جاتی ہے۔ پھر گہرائی میں جا کر دیکھا جاتا ہے تو پتا چلتا ہے یہ زیادتی بھی نہ ہوتی اگر خاتون خود اسلامی اصولوں پر چلتی یا اسے موقع فراہم نہ کرتی۔ یہاں "می ٹو" جیسے شرمناک ٹرینڈ میں شرکت کرنے والی خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ جو ہیں وہ بھی مخصوص پس منظر رکھتی ہیں۔ ان ممالک میں خواتین کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے تنظیمیں بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ یہ ساری چیزیں اسلام نے پہلے سے مقرر کر رکھی ہیں۔ غرض پانچ گز کا یہ کپڑا مسلم ممالک اور خواتین کے لیے کسی نعمت عظمٰی سے کم نہیں ہے۔ لہٰذا بلاجھجک اور بغیر کسی خوف ملامت کے، فوراً اسے روز مرہ زندگی کا حصہ بنالیں۔ اس بارے میں ہونے والے اعتراضات پر کان مت دھریں کیوں کہ

عرفی تو مایندیش زغوغائے رقیباں

آواز سگاں کم نکند رزق گدا را

* * *

منگل، 31 جنوری، 2017

Zavia e nigah زاویہ نگاہ


"زاویہ نگاہ"

تحریر :عبدالصبور شاکر

ظہیر عباس میرا کلاس فیلو تھا. پوری کلاس میں اگر مجھے کسی پر رشک آتا تھا تو وہ یہی شخص تھا.
ہر امتحان میں فرسٹ آنا اور فرفر انگریزی بولنا اس کا مشغلہ تھا.
لیکن اس میں ایک خامی بھی تھی. کہ
یہ ایک عجیب انسان تھا. یوں کہہ سکتے ہیں کہ ذہانت اور بے وقوفی کا حسین امتزاج تھا

اتنا ذہین ہونے کے باوجود کبھی کبھی ایسی بات کر دیتا کہ سننے والوں کو اس کی عقل کے صحیح ہونے پر شک پڑنے لگتا.

ایک مرتبہ اپنے ساتھی طلباء سے پوچھنے لگا :
"دوستو! اگر آپ کی بہن آپ کے سامنے کپڑے اتار رہی ہو تو آپ کیا کریں گے؟ اسے ماریں گے، یا اس کی مدد کریں گے؟ "
تمام لڑکے اس کا بے وقوفانہ سوال سن کر ہنسنے لگے.

جماعت میں ہوتا شور سن کر ایک استاذ صاحب ادھر آ گئے.
اور استفسار کیا تو لڑکوں نے ظہیر کی بے وقوفی کی داستان سنا دی

لیکن ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب استاد صاحب نے بھی اسی کی طرف داری کرتے ہوئے فرمایا کہ
" واقعی! ظہیر کی بات درست ہے. تمہیں اس کے بارے میں کچھ بتانا چاہیے "
ساتھ ہی انہوں نے آخر میں بیٹھے ایک لڑکے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "تم بتاؤ"

لڑکے نے کھڑے ہو کر ادھر ادھر دیکھا اور جواب دیا کہ "سر! اگر میری بہن میرے سامنے ایسی حرکت کرنے کی کوشش کرے گی تو میں اسے جان سے مار دوں گا "

پھر کئی لڑکوں سے پوچھا گیا تو سب کا جواب اسی جواب سے ملتا جلتا تھا

پھر استاذ صاحب نے ظہیر کو دعوت دی کہ تم خود اس کے بارے میں بتاؤ.

ظہیر کا جواب ہم جماعتوں سے مختلف تھا
کہنے لگا "سر! میں اپنی بہن کی مدد کروں گا ".
کلاس میں ایک بار پھر قہقہہ گونجا لیکن استاذ صاحب سنجیدہ تھے.
جسے دیکھ کر کلاس میں خاموشی چھا گئی.

"ظہیر درست کہہ رہا ہے "
استاذ صاحب نے جواب دیا

"لیکن سر ہمیں ظہیر اور اپنے جواب میں فرق تو سمجھا دیں پلیز "
ایک لڑکے نے درخواست کی.

استاذ صاحب نے فرمایا :

" بیٹا! بہت زیادہ فرق ہے.
سوچ کا فرق، طبیعت کا فرق، میلان کا فرق اور مزاج کا فرق.
پہلا جواب منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، ایسا جواب دینے والے معاشرے کے وہ افراد ہیں کہ اگر ان کے سامنے میٹھا حلوہ رکھ کر اس میں ایک دانہ سیاہ مرچ کا ڈال دیا جائے تو ہمیشہ اسی سیاہ مرچ کا تذکرہ کرتے نظر آئیں گے، ان کی نظر اس میٹھے سے بھری پلیٹ کی کی جانب نہیں ہوگی.
ایسی سوچ اس مکھی کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے جو سارے تندرست بدن کو چھوڑ کر صرف زخم پر جا بیٹھتی ہے.

یہ سوچ انسانی معاشرے کو بے انصافی اور منافقت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا دھکیلتی ہے.
انسان کو آس پڑوس میں ہونے والے تعمیری امور نظر نہیں آتے بلکہ اس کا زاویہ نگاہ "ویک پوائنٹس" پر جا ٹھہرتا ہے.
انسان اپنی غلطیوں پر غور کرنے کی بجائے دوسروں کے عیوب کی چھان پھٹک میں لگ جاتا ہے،
پھر اسے راہ میں پڑے کنکر میں بھی گورنمنٹ کی خرابی نظر آ جاتی ہے جبکہ اپنے گھر کے سامنے بنے ذاتی سپیڈ بریکر میں بھی لوگوں کی بھلائی معلوم ہوتی ہے.

اسے اپنے علاوہ ہر بندہ کام چور اور ہر صاحبِ فن ریاکار نظر آتا ہے.

اس کی آنکھوں پر انا پرستی کی پٹی بندھ جاتی ہے
جو اس سے اس کے اپنے عیوب چھپا دیتی ہے اور دوسروں کے یوں ظاہر کر دیتی ہے جیسے خفیہ کیمرے دن رات کی رپورٹ دیا کرتے ہیں.

یہ سوچ انسان کو بداعتمادی کا مریض بنا دیتی ہے.

ہمچوں ما دیگرے نیست
اس کا ماٹو بن جاتا ہے.

جبکہ دوسرا جواب مثبت سوچ کا پتہ دے رہا ہے، ایسی سوچ والے افراد ہی دنیا میں ترقی کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس دوسروں پر نکتہ چینی کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا،
یہی لوگ کامیابی کے زینے بڑی تیزی سے طے کرتے ہیں."

لیکن سر! ظہیر کا جواب درست کیسے ہے؟ "
ایک طالب علم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا

" بیٹا! یہ تو بڑی آسان سی بات ہے. ظہیر کی بہن نے کپڑے سکھانے کے لئے تار پر ڈالے ہوئے تھے، انہیں اس نے ظہیر کے سامنے اتارنا شروع کیا تو ظہیر بھی اس کی مدد کرنے لگا.

بس یہی میں کہتا ہوں اپنے دامن کو بدگمانی، بداعتمادی اور منفی سوچ سے بچاؤ، ورنہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاؤ گے، تمہارا بیشتر وقت فضول تفکرات میں بیت جائے گا اور مثبت امور پر سوچنے کا موقع پر لگا کر اڑ جائے گا. "

درج بالا ویڈیو یہی درس دے رہی ہے، سفید تختے پر لگے ایک سیاہ نقطے نے منفی سوچ حامل طلباء کی تمام تر توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی
جبکہ مثبت سوچ کے حامل افراد نے ایک باریک نقطے کی جانب کوئی توجہ ہی نہیں کی تھی

جب تک نہ تھی اپنے عیبوں پر نظر، رہا دیکھتا آوروں کے عیب وہنر

جب پڑی اپنی برائیوں پہ نظر، تو نظر میں کوئی برا نہ رہا

Children and our responsibilities احساس زیاں


"احساس زیاں "

تحریر : عبدالصبور شاکر


"کدھر سے آنا ہوا؟ "
غصے میں کھولتے باپ نے جب رات گئے آنے والے اپنے جوان بیٹے سے پوچھا تو بیٹے نے دوستوں کے ساتھ پڑھائی کا بہانہ کر دیا.
جب کئی راتوں تک باپ بیٹے کے مابین اس سے ملتا جلتا مکالمہ چلا تو اس کا نتیجہ نہایت خوفناک صورت میں برآمد ہوا.

اگلی صبح جب ماں اپنے بیٹے کو جگانے کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی چیخیں نکل گئیں

کمرے میں اس کے بیٹے کی جگہ اس کی لاش پڑی تھی، ساتھ ہی ایک رقعہ رکھا تھا جو اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ صاحبزادے نے روز کی جھک جھک سے تنگ آ کر خود کشی کر لی ہے

ایک رسالے میں جب یہ واقعہ پڑھا تو ذہن نجانے کن خیالوں میں جا نکلا؟

زندگی چند امور کا نام ہے. اگر ان میں سے کسی کو بھی چھوڑنے کی کوشش کی جائے تو یہ پھیکے پن کا شکار ہو جاتی ہے
اسی طرح زندگی میں چند رشتے ایسے ہیں کہ اگر انہیں نظر انداز کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ صرف زندگی کا مزہ پھیکا پڑ جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رشتوں کا رنگ بھی اڑ جاتا ہے جس کا نتیجہ کسی نہ کسی موڑ پر تنہائی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے.

مغربی تقلید کا ایک نقصان یہ ہوا کہ ہمارا معاشرہ رشتوں کی رنگینی سے لطف اندوز ہونا بھولتا جا رہا ہے، والدین اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے انہیں وقت نہیں دے پاتے، جبکہ بچے اپنے دوستوں کی وجہ سے والدین سے دور ہوتے جا رہے ہیں.

دونوں فریقوں کے پاس وقت کی انتہائی کمی ہے، اور یہ خلیج اتنی تیزی سے وسیع ہوتی جا رہی ہے کہ اگر بروقت اس کے تدارک کی کوشش نہ کی گئی تو بعید نہیں کچھ عرصے بعد بچے اپنے والدین کو صرف ویک اینڈ پر ہی مل پائیں گے.
یا پھر خدا نخواستہ وہ دور آ جائے کہ بچے اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے لگ جائیں اور ہماری ملی، قومی، معاشرتی، اور اسلامی روایات یوں دب جائیں جیسے یورپ و اہل مغرب کی روایات سائنس کی ترقی میں کہیں ڈوب چکی ہیں.

صرف یہی نہیں کہ والدین کی مصروفیات کی بنا پر ان کے لئے اپنے بچوں کی خاطر وقت نکالنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس بلائے ناگہانی نے اس کے ضمن میں کئی دیگر مسائل کو بھی جنم دے دیا ہے
مثلاً :
🔷بچے اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے ایسے ایسے بکھیڑوں میں پڑ رہے ہیں جن کے بارے میں محض سوچنا بھی چند سال قبل دشوار تھا.
گذشتہ دنوں اپنی معلمہ کے عشق میں مبتلا ساتویں جماعت کے بچے کی خودکشی اس کی بدترین مثال ہے
یہ محض غلط تربیت کا نتیجہ ہے، اور بچے کی اس جان لیوا غلطی میں جہاں میڈیا، ماحول اور دوست انوالو ہیں وہیں اس کی موت کے ذمہ دار والدین بھی ہیں، جو اتنی بات پر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں کہ "ہماری ساری محنت انہی کا مستقبل سنوارنے ہی کے لیے تو ہے"

یا ان کا یوں کہنا کہ
"اب ہمارے بچے میچور ہو گئے ہیں، انہیں سمجھانے کی اب ہمیں کوئی ضرورت نہیں "

🔷ایک اور چیز جس نے اسی مسئلے سے جنم لیا ہے وہ ہے، اپنے مذہب و نظریات اور اقدار سے دوری،
سکول میں مذہب کی تعلیم آٹے میں نمک برابر بھی نہیں ہے اور گھر کا ماحول اسلامی نہیں ہے، نہلے پہ دہلا یہ کہ والدین اپنے بچوں کو وقت نہیں دے پاتے، نتیجتاً بچے انتہائی بنیادی اسلامی تعلیمات بھی کورے ہوتے جا رہے ہیں

🔷والدین کی توجہ نہ ہونے کی بنا پر بچے اپنے قریبی رشتوں کی پہچان بھولتے جا رہے ہیں، انہیں یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ والدہ کے بعد کون سا رشتہ اس کے لیے زیادہ اہم ہے؟ ، اور دیگر رشتہ داروں کے کون سے حقوق اس پر لازم ہیں؟

🔷سارا دن اپنے ملازمین یا گلی محلہ کے آوارہ بچوں کی صحبت، بچوں پر خوب رنگ چڑھاتی ہے. جس کے نتیجے میں بچوں کے وہ اخلاقی تربیت ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ،
گالیاں دینا، گلی محلے کے عزت داروں پر آوازے کسنا انہیں اپنا مشغلہ معلوم ہوتا ہے.

🔷وقت گزاری کے لیے بچے کارٹون اور ویڈیو گیمز کا سہارا لیتے ہیں جو کئی ناجائز امور کا مجموعہ ہوتے ہیں،
بچوں کا لاشعور ان کے بیک ڈور پیغام کو غیر محسوس انداز میں قبول کر لیتا ہے، جس کا نتیجہ وقتا فوقتاً قتل وغارت، ڈاکہ زنی، خود کشی اور مار دھاڑ کی صورت میں نکلتا رہتا ہے.
اور ہم اے سی کی ٹھنڈی یخ بستہ ہواؤں میں بیٹھے حیرانگی کے ساتھ کہہ رہے ہوتے ہیں،
"پتہ نہیں! ان بچوں کو کیا ہو گیا ہے؟ ہمارے دور میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا"


غور کیا جائے تو اس سے ملتے جلتے ہزاروں مسائل ایسے ہیں جو ہماری اس بے اعتدالی کے سبب، نہ صرف دن بدن پیدا ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ان میں روز افزوں خوفناک ترقی بھی ہو رہی ہے

وقت کسی کو مہلت نہیں دیتا، اگر ہم نے اس مسئلہ پر قابو نہ پایا تو یقین کیجئے چند سالوں بعد ہمیں بھی اہل مغرب کی طرح اپنی اولاد سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں.

ہماری آنے والی نسلیں ہمارے بھی آخری ایام اولڈ ہومز میں گزروائیں گی،

شادیاں اپنی مرضی سے کریں گی اور اپنے والدین کی خدمت کرنے پر ان سے معاوضہ طلب کریں گی.

دوستو! اس بارے میں ہمیں اجتماعی شعور بیدار کرنا ہوگا

بچوں کی اخلاقی تربیت پر بھر پور توجہ دینا ہوگی

انہیں انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز کی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا میں لانا ہو گا

اپنے وقت میں سے ایک حصہ ان کے لئے مختص کرنا ہو گا تاکہ وہ ہمارے ساتھ مانوس ہوں، اجنبیت ختم ہو، اور وہ اپنی باتیں، اپنے مسائل ہمارے ساتھ شئر کر سکیں.

وہ ہمیں اپنا ہمدرد سمجھیں نہ کہ محض سرپرست، جو ان کے لئے سرمایہ مہیا کرتا ہے

یاد رکھیں!
اگر ہم نے یہ نادر موقع گنوا دیا تو پھر ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا،
کیونکہ

خود اپنی ہی جڑوں پر ہی چلاتی ہے درانتی
بربادی احساس نمو مانگ رہی ہے

جمعرات، 30 اپریل، 2015

عبدا  لصبور شاکرؔ

کمسنی کا نکاح
قرب قیامت ، اپنے ساتھ کئی ایسے مسائل کو جمع کر رہی ہے ، جنہیں آج سے کچھ عرصہ قبل متفق علیہ سمجھا جاتا تھا۔آجکل نام نہاد انسانی حقوق یا حقوقِ نسواں کے عنوان سے وقتافوقتا ایسے خالص علمی وتحقیقی،معاشرتی وتمدنی موضوعات کو انتہائی بے ڈھنگے اورجاہلانہ انداز سے چھیڑا اوراچھالا جاتاہے کہ خالی الذہن اورعام آدمی ان کے دام تزویر میں آئے بغیر نہیں رہ سکتا۔تہذیبِ مغرب کو حقیقت کی آنکھ سے دیکھنے اوراس کو اندر سے جھانکنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اُس معاشرے میں انسانیت اورخاص طور صنفِ نازک کس کرب والم میں مبتلاء اورسسک رہی ہے،اس کے باوجود وہ لوگ سال میں ایک ایک دن خاص موضوعات(جیسے مدر ڈے،خواتین کا عالمی دن،آبادی کا عالمی دن،ماں اوربچے کا عالمی دن وغیرہ) کیلئے مختص کرکے انسانیت کے چیمپین بننے کی کوشش کرتے ہیںہمارے ملک کا ایک مخصوص طبقہ بھی جانے انجانے میں انہی خرافات میں پڑ کر نہ صرف یہ بھول جاتے ہیں اسلام نے انسانیت کو کس قدر مساوات پر مبنی اور آفاقی حقوق عطاء کئے ہیںبلکہ بساوقات انہی نام نہادانسانی حقوق کی آڑ میں شرعی مسلّمات پر بھی احمقانہ وجاہلانہ کج بحثیاں شروع کردی جاتی ہیں۔حال ہی میں خواتین کے عالمی دن کے موقعہ پر پنجاب اسمبلی نے کچھ قانون سازیاں کیں جن ایک شق کم عمری میں نکاح کی ممانعت بھی شامل ہے جس کی روسے سولہ سال سے کم عمر لڑکی کا نکاح کرنے والے والدین اورنکاح خواںقیدوجرمانہ کے مستحق ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ اس قسم کے مسائل پر بحث کرنے اورشرعی نقطہ نظر واضح کرنے کیلئے ہمارے ملک میں ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘کے نام سے ایک مستقل وفاقی ادارہ ہے اور قانون ساز اسمبلیاں اس بات کی پابند ہیںکہ شرعی مسائل میں اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف رجوع کریں اور اس کی دی ہوئی سفارشات کو عملی جامہ پہنائیں۔لیکن بہت سے دیگراداروں کی طرح اس ادارے کی حیثیت بھی نشتن ،گفتن اور برخاستن سے بڑھ کر نہیں ہے۔لہذا اگر تو اس قسم کے قوانین اس مغربی معاشرے کی تقلید میں پاس کئے جارہے ہیں جہاں سولہ سال سے کم عمر کا نکاح تو قابلِ سزاجرم ہے اور اگر پندرہ سالہ لڑکی حرامکاری میں مرتکب ہوکر ماں بن جائے تو اسے مکمل ’’انسانی آزادی‘‘اور’’انسانی حقوق ‘‘حاصل ہیں،پھر تو اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگراربابِ حل وعقد واقعتا بعض معاشرتی مسائل اورخرابیوں کو سامنے رکھ کر ان کا سدِ باب کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس قسم کی قانون سازی سے پہلے قرآن وسنت کی روشنی میں اس قسم کے مسائل کی اصل نوعیت کو واضح کرنا ضروری ہے۔
دراصل یہ دو علیحدہ علیحدہ مسئلے ہیں، یعنی
۱۔سولہ سے کم عمر بچی کا نکاح 
۲۔ سولہ سال سے کم عمر بچی کی رخصتی
گزارش ہے کہ پہلی صورت میں تو کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ سب علماء کا اجماع ہے کہ سولہ سال سے کم عمر بچی کا نکاح منعقد ہو سکتا ہے۔(رحمۃ الامہ: ۲۶۳،۲۶۵) اور اس کی دلیل قرآن مجید کی آیت مبارکہ واللآئی لم یحضن (سورۃ الطلاق:۴)ہے۔یعنی ’’اسی طرح وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی ماہواری آنی شروع ہی نہیں ہوئی، ان کی عدت بھی تین مہینے ہوگی۔ گویا کم سنی کا نکاح قرآن پاک کی روشنی میں معیوب نہیں ہے،اگریہ معیوب چیز ہوتی تو اللہ تعالی اس کا حکم ہی بیان نہ فرماتے۔
اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’فلما بین اللہ تعالی عدۃ النساء اللاتی یحضن ۔۔۔۔۔ قام رجل آخر فقال ارأیت یا رسول اللہ فی اللآئی لم یحضن للصغر ماعدتھن فنزل لم یحضن من الصغر فعدتھن ایضاثلاثۃ اشھر‘‘ جب اللہ تعالی نے حائضہ عورتوں کی عدت بیان فرمائی تو ایک آدمی کھڑا ہوگیا اور عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کا اس عورت کی عدت بارے کیا خیال ہے جسے کم سنی کی وجہ سے حیض نہ آیا ہو تو یہ آیت مبارکہ واللآئی لم یحضن  نازل ہوئی۔کہ جن عورتوں کو صغر سنی کی وجہ سے حیض نہ آئے تو ان کی عدت بھی تین مہینے ہے۔
قرآن مجید کے علاوہ حدیث مبارکہ سے بھی اسی بات کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے دو باب باندھے ہیں ،ایک باب ’’باب تزویج الصغار من الکبار‘‘ ہے یعنی کم سن لڑکی کا بڑے آدمی سے نکاح کرناجس میں یہ حدیث مبارکہ نقل کی ہے۔ ’’عن عروۃ رضی اللّٰہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم خطب عائشۃ الی ابی بکر ، فقال لہ ابوبکر: انما انا اخوک، فقال انت اخی فی دین اللہ وکتابہ وھی لی حلال‘‘ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ مانگا تو انہوں نے عرض کی کہ میں تو آپ کا بھائی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو میرا دین میں بھائی ہے ، اور عائشہ میرے لیے حلال ہے‘‘۔ اور سب جانتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس وقت صرف چھ سال تھی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسرے باب کا عنوان یہ رکھا ہے ’’باب انکاح الرجل ولدہ الصغار‘‘ (آدمی کا اپنی کمسن اولاد کا نکاح کردینا)،  دلیل کے طور پر یہ آیت مبارکہ لائے ہیں۔ واللآئی لم یحضن: فجعل عدتھا ثلثۃ اشھر قبل البلوغ۔ اس باب کے تحت یہ حدیث مبارکہ لائے ہیں۔ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تزوجھا وھی بنت ست سنین۔ وادخلت علیہ وھی بنت تسع۔ ومکثت عندہ تسعا۔‘‘ (صحیح بخاری ۷۷۱؍۲)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عقد فرمایاجب وہ چھ سال کی تھیں، اور ان کی رخصتی ہوئی جب کہ وہ نو سال کی تھیں، اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو سال رہیں۔امام بخاریؒ کے قائم کردہ مذکورہ دونوں باب یہی بتلاتے ہیں کم سنی میں نکاح کی اجازت ہے۔ 
اس حدیث مبارکہ کے ذیل میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔ ’’مہلب فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ باپ کے لیے جائز ہے کہ اپنی چھوٹی کنواری بیٹی کا عقد کر دے۔ اگرچہ وہ وظیفہ زوجیت کے لائق نہ ہو۔ ‘‘(حاشیہ بخاری ص ۷۷۱ ج ۲) معلوم ہوا کہ اس واقعے کی حقیقت پر امت کا اجماع ہے۔نیز سولہ سال سے کم عمر بچی کا نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ نیز فقہاء کرام نے خیار بلوغ کے عنوان پر باقاعدہ ابواب باندھے ہیں اور لمبی لمبی ابحاث ذکر کی ہیں اگر ہم کم عمر ی کے نکاح کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو فقہاء کرام کی ان تمام باتوں کو لغو ماننا پڑے گا جو کہ خود ایک لغو بات ہوگی۔
اب آتے ہیں دوسرے مسئلہ کی طرف کہ آیا سولہ سال سے کم عمر بچی کی رخصتی شرعا جائز ہے یا نہیں؟توظاہر ہے رخصتی کے معاملہ میں سن بلوغ کا اعتبار کیا جاسکتاہے ، معاشرتی وطبی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے اگر رخصتی یا نکاح مع رخصتی کیلئے حکومت وقت کی طرف اگر عمرکی کوئی قید مقرر کردی جائے اس میں تو بظاہر کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا ،لیکن کم سنی میں مطلقا نکاح کی ممانعت یہ واقعتا ایک قابل غور مسئلہ  ہے جس میں کسی حتمی قانون سازی سے پہلے محققین سے رائے لینا ضروری ہے۔کیونکہ شریعت نے جس بات کو عام رکھا ہو ہم اپنی طرف سے اس کو مقید نہیں کرسکتے۔
ذیل میں ہم کچھ مشہور نکاح لکھتے ہیں جو کم سنی کی عمر میں طے پائے۔
٭حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ کا نکاح بچپن ہی میں سلمہ بن ابی سلیمہ سے کر دیا تھا۔
٭سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بچپن ہی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کر دیا تھا۔
٭حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کی پانچ سالہ بیٹی کا نکاح ایک لڑکے سے کر دیا تھا۔
٭حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے اپنی کم سن بیٹی کا نکاح مسیب بن نخیہ سے کر دیا تھا۔(بحوالہ سیرت امہات المؤمنین)
اس کے ساتھ ساتھ ایک فائدے کی بات جو صدرمفتی دارالعلوم کراچی مفتی عبدالرؤف سکھرو ی صاحب دام ظلہ نے نقل فرمائی ہے کہ: ’’جب حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا ساڑھے پندرہ برس کی ہوئیں، تو سب سے پہلے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے نکاح کا پیغام دیا، اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نکاح کا پیغام دیا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے عذر فرمادیا اور معذرت کر لی کہ میری بیٹی کی عمر کم اور تمہاری عمر زیادہ ہے۔‘‘(شادی بیاہ کے اسلامی احکام)